بھٹکل:20؍ڈسمبر (ایس او نیوز) کمپیوٹر کے جدید زمانے میں امیر ،غریب اورفقیر سمیت سب کے ہاتھوں اسمارٹ فون ہو تو کون چاہتا ہے کہ ہاتھوں کو تکلیف دیں ، قلم کا وزن اٹھائیں اور کاغذ پر لکھنے کی زحمت گوارہ کریں ۔ نئی نسل تو لفظ’’پوسٹ آفس ‘‘ سے ہی ناآشنا ہوتی جارہی ہے ۔ ایسے میں بھٹکل کی مادرحوا اسلامک اسکول کے ذمہ داران نے انوکھا اقدام کرتے ہوئے اپنے چہارم جماعت کے طلبا کو بھٹکل پوسٹ آفس لے جاکر وہاں کا عملی نظارہ دکھاتے ہوئے سمجھایا کہ جب موبائیل ، ای میل نہیں تھاتو ہمارے باپ دادا اوردیگر لوگ کیسے ایک دوسرے سے رابطہ میں رہتے تھےاور کیسے حال احوال سے باخبر رہتے تھے۔
پوسٹ آفس میں بھٹکل پوسٹ ماسٹر اُدئیے شرالیکر نے ان بچوں کو ملک کے اندر اور بیرونی ممالک کو کس طرح خط بھیجا جاتاہے ، طریقہ کار کیا ہوتاہے، اس پر مہر لگانے کا مطلب کیا ہے ، جیسی ضروری معلومات بہترین اندازمیں بچوں سے گھل مل کر ذہن نشین کرائی ۔ اس موقع پر ادارے کی نائب صدر اور ادارے کے بانی مرحوم عبداللہ دامودی کی دختر حوا نسرین دامودی ، جوائنٹ سکریٹری صفوان موٹیااور استانی رومانہ وغیرہ بچوں کے ساتھ تھے۔